Brown Plant Hopper بھورا رس چوسنے والا کیڑا



بھورا رس چوسنے والا کیڑا

براؤن پلانٹ ہوپر  یا   بی پی ایچ  چاول کے پودے کا ایک اہم اور تباہ کن کیڑا ہے۔ یہ پودے کے خلیوں سے رس چوس کر اسے نقصان پہنچاتا ہے۔ جس سے فصل کی نشوونما رک جاتی ہے اور پیداوار میں شدید کمی آتی ہے۔ یہ نہ صرف براہ راست پودے کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ چاول کی فصل میں وائرل بیماریاں بھی پھیلاتا ہے۔


پہچان



  • جسم: اس کیڑے کا رنگ عام طور پر بھورا یا گہرا سبز ہوتا ہے۔ اس کا سائز تقریباً 3-4 ملی میٹر ہوتا ہے۔
  • پروں کا سائز: براؤن پلانٹ ہوپر دو مختلف حالتوں میں پایا جاتا ہے۔
    • مختصر پروں والا (Brachypterous): یہ کیڑے چھوٹے پروں والے ہوتے ہیں اور زیادہ تر ایک ہی جگہ رہ کر آبادی بڑھاتے ہیں۔
    • لمبے پروں والا (Macropterous): یہ کیڑے لمبے پروں والے ہوتے ہیں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ اڑ کر جاتے ہیں۔ جس سے بیماری اور کیڑوں کا حملہ پھیلتا ہے۔
  • مقام: یہ کیڑے زیادہ تر پودے کے نچلے حصے یعنی تنے کے قریب رہتے ہیں۔ جہاں یہ رس چوستے ہیں اور انڈے دیتے ہیں۔ ان کا پتہ لگانے کے لیے پودوں کو آہستہ سے ہلانا پڑتا ہے۔

لائف سائیکل (Life Cycle)   



براؤن پلانٹ ہوپر کا لائف سائیکل تین اہم مراحل پر مشتمل ہوتا ہے

1.   انڈا (Egg): مادہ کیڑا پودے کے نچلے پتوں یا تنے میں انڈے دیتا ہے۔ ایک مادہ 200 سے 300 انڈے دے سکتی ہے۔ انڈے دینے کے لیے یہ ایک چھوٹی جیب بناتی ہے اور اس میں انڈے ڈالتی ہے۔ انڈوں سے بچے 7 سے 10 دن میں نکل آتے ہیں۔

2.    بچہ (Nymph): انڈوں سے نکلنے والے بچوں کو 'نمف' کہا جاتا ہے۔ یہ بغیر پروں کے ہوتے ہیں اور فوراً پودے کا رس چوسنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ تقریباً 5 سے 6 بار اپنی کھال بدلتے ہیں اور اس عمل میں 15 سے 18 دن لگتے ہیں۔

3.   بالغ (Adult): نمف سے بالغ کیڑا بنتا ہے۔ بالغ کیڑوں کا لائف سائیکل تقریباً 20 دن ہوتا ہے، اس دوران یہ انڈے دیتے ہیں اور فصل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

  • کل دورانیہ: براؤن پلانٹ ہوپر کا مکمل لائف سائیکل 3 سے 4 ہفتوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔ گرم اور مرطوب موسم اس کی تیزی سے افزائش کے لیے سازگار ہوتا ہے۔

نقصان


  • رس چوسنا: یہ کیڑے پودے کے خلیوں سے رس چوستے ہیں۔ جس سے پودا کمزور ہو جاتا ہے اور اس کی نشوونما رک جاتی ہے۔
  • ہنی ڈیو کا اخراج (Honeydew Excretion): رس چوسنے کے دوران یہ ایک لیس دار مادہ خارج کرتے ہیں، جسے "ہنی ڈیو" کہتے ہیں۔ اس پر سیاہ پھپھوندی لگ جاتی ہے جو پودے کی ضیائی تالیف (photosynthesis) کے عمل کو متاثر کرتی ہے۔
  • ہاپر برن (Hopper Burn): جب ان کا حملہ شدید ہو جاتا ہے تو پودے پہلے پیلے اور پھر بھورے ہو کر سوکھ جاتے ہیں۔ اس صورتحال کو "ہا  پر برن" کہتے ہیں۔
  • بیماریوں کا پھیلاؤ: براؤن پلانٹ ہوپر بعض وائرل بیماریاں، جیسے "گراسی سٹنٹ" اور "رائس رگڈ سٹنٹ" پھیلاتا ہے۔ جو چاول کی فصل کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔

علاج اور تدارک

  • جسمانی کنٹرول: فصل میں کیڑوں کی آبادی کا باقاعدگی سے معائنہ کریں۔ اگر ابتدائی مراحل میں کیڑے نظر آئیں تو متاثرہ پودوں کو ہٹا دیں۔
  • نباتاتی کنٹرول: ایسے پودے یا چاول کی اقسام کاشت کریں جو اس کیڑے کے خلاف قدرتی مزاحمت رکھتے ہوں۔
  • پانی کا انتظام: زیادہ پانی ان کیڑوں کی افزائش کو بڑھاتا ہے۔ پانی کو کھیت سے نکال کر خشک رکھیں تاکہ کیڑے اوپر کی طرف آ جائیں اور ان کا خاتمہ آسان ہو جائے۔
  • حیاتیاتی کنٹرول: بی پی ایچ کے قدرتی دشمن جیسے مکڑیاں اور لیڈی بگ وغیرہ کو کھیت میں فروغ دیں۔
  • کیمیائی کنٹرول: اگر کیڑوں کا حملہ معاشی نقصان کی حد تک پہنچ جائے تو ماہرین زراعت  اور ہارویسٹ ہوریزن کے زرعی ماہر کے مشورے سے مناسب کیڑے مار دوا کا سپرے کریں۔ یاد رکھیں تنے کے نچلے حصے پر سپرے کرنا ضروری ہے تاکہ کیڑے براہ راست اس کے اثر میں آئیں۔ اس کے لیے پائی میٹروزین (Pymetrozine) یا ڈائنوٹی فیوران (Dinotefuran) جیسی ادویات موثر ثابت ہو سکتی ہیں۔

براؤن پلانٹ ہاپر کے حملے سے بچاؤ کے لیے فصل کے شروع سے ہی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بہت ضروری ہے

تاکہ فصل کی پیداوار کو محفوظ رکھا جا سکے۔

غلام یٰسین آرائیں ۔ کہروڑ پکا 

 

Comments

Popular posts from this blog

Gundi Bug گندھی بگ Rice Bug