Gundi Bug گندھی بگ Rice Bug
چاول کے کھیت کا بدبودار دشمن
گندھی بگ جسے مقامی زبان میں بعض
اوقات گُندا بگ بھی کہہ دیا جاتا ہے ہمارے
کسانوں کے لیے ایک پریشان کن مسئلہ ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا کیڑا ضرور ہے مگر یہ دھان
(چاول) کی فصل کو بہت زیادہ نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی پہچان
نہایت آسان ہے
"گندھی" کا مطلب ہے "بدبو دار۔"
گندھی بگ کی
پہچان :
یہ کیڑا شکل میں لمبا اور پتلا
ہوتا ہے اس کا رنگ ہلکا سبز یا بھورا ہوتا ہے جو اسے دھان کے پودوں میں
چھپنے میں مدد دیتا ہے۔ جب اسے کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے یا کسان اسے چھوتے ہیں تو
یہ ایک تیز اور ناگوار بدبو خارج کرتا ہے جو اس کی موجودگی کا پکا ثبوت ہے۔
یہ کیڑا دوسرے کیڑوں کی طرح پودوں کو کترتا نہیں ہے یہ اپنے سوئی جیسے منہ سے
پودوں اور دانوں کا رس چوستا ہے۔
فصل کو نقصان پہنچانے کا طریقہ :
گندھی بگ دھان کی فصل پر زیادہ تر اس
وقت حملہ کرتا ہے جب دھان کے خوشوں میں دودھ بننے کا مرحلہ (Milk Stage) چل رہا ہوتا
ہے۔ یہ فصل کا نازک ترین وقت ہوتا ہے۔
1. رس چوسنا:
یہ ننھا
کیڑا دھان کے نرم دانوں میں اپنا منہ ڈال کر ان کا سارا رس (دودھ) چوس لیتا
ہے۔ رس چوسنے کا عمل اس وقت تک جاری رہتا ہے جب دانہ پک کر سخت نہیں ہو جاتا ہے ۔
2. خالی دانے:
رس نکل جانے
کے بعد دانے سوکھ کر کھوکھلے (چافی) رہ جاتے ہیں۔ ایسے دانوں میں سے چاول
نہیں نکلتا اور یوں کسان کی پوری محنت ضائع ہو جاتی ہے۔ یعنی خس پڑ جاتی ہے ۔ اس
وقت اس کا کوئی علاج نہیں ہوتا ہے ۔
3. پیداوار میں کمی:
اس کی وجہ
سے نہ صرف چاول کی مقدار میں کمی آتی ہے بلکہ جو دانے بچتے ہیں ان کا معیار بھی
خراب ہوتا ہے۔ اگر حملہ بہت زیادہ ہو تو کھیت میں شدید بدبو پھیل جاتی ہے۔
معیار خراب ہونے سے فروخت میں مسائل پیدا ہو جاتے ہیں ۔ اس وقت قسمت کا رونا رویا
جاتا ہے ۔
گندھی بگ سے
بچاؤ :
اس نقصان دہ کیڑے پر قابو پانے کے لیے
ہوشیاری اور بروقت کارروائی بہت ضروری ہے۔ اس لئے اپنے زرعی کنسلٹنٹ کے رابطہ میں
رہیں اور باقاعدگی سے فیلڈ وزٹ ساتھ جا کر وزٹ کرتے رہیں ۔ یامحکمہ زراعت اور ہارویسٹ ہوریزن کے زرعی ماہرین سے رابطہ کریں ۔
- کھیت
کی صفائی:
سب سے پہلے
اور سب سے اہم کام یہ ہے کہ دھان کے کھیت کے ارد گرد کی جنگلی گھاس اور جڑی
بوٹیوں کو ختم کر دیا جائے۔ کیونکہ یہ کیڑے انہی میں چھپ کر اپنے انڈے دیتے
ہیں۔
- مشترکہ
کاشت:
کسانوں کو
کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے علاقے میں دھان کی بوائی ایک ہی وقت میں کریں تاکہ
یہ کیڑا کسی ایک کھیت پر بہت زیادہ حملہ نہ کر سکے۔
- شکاریوں
کی حفاظت:
ایسے چھوٹے
حشرات اور جانور جو قدرتی طور پر گندھی بگ کو کھاتے ہیں جیسے کہ مکڑیاں یا
مخصوص بھونرے
(Beetles) انہیں کھیت میں
رہنے دیا جائے تاکہ وہ اپنا کام کرسکیں۔
- کیمیائی
کنٹرول:
اگر کیڑوں کی تعداد حد سے بڑھ جائے تو
محکمہ زراعت اور ہارویسٹ ہوریزن کے زرعی
ماہرین کےمشورے سے مناسب اور کم طاقت کی کیڑے مار دوا
(Pesticide) کا سپرے کیا جائے اور یہ سپرے دانوں میں دودھ بننے کے مرحلے پر
بہت احتیاط سے کیا جائے۔
گندھی بگ ایک چھوٹا لیکن طاقتور دشمن
ہے۔ اس سے بچاؤ کا سب سے بہترین طریقہ یہی ہے کہ کسان بھائی کھیت کی صفائی
ستھرائی کا خاص خیال رکھیں اور کیڑے کی پہلی علامت نظر آتے ہی فوری اور مناسب
کارروائی کریں۔ اس طرح ہم اپنی فصل کو اس بدبودار دشمن سے بچا کر ایک اچھی اور
معیاری پیداوار حاصل کر سکتے ہیں۔
اس کے مزید نام :
گندھی
بگ (Gundhi Bug) کا سائنسی خاندان کا نام الیڈیڈی
(Alydidae)
ہے
سائنسی
جینس: Leptocorisa
جیسے Leptocorisa oratorius یا Leptocorisa acuta کہتے ہیں
بدبو کی بنیاد پر۔ اس کا نام گندھی کیڑا یا گندھی بگ ۔ سب سے عام نام ہے۔ جو اس کی ناگوار بدبو کی
وجہ سے جانا جاتا ہے
گُندی پُوکَہ ۔خاص طور پر بنگلہ دیش میں استعمال ہونے
والا نام
فصل کی بنیاد پر ۔دھان کا کیڑا ۔Rice Bug۔ یہ سب سے عام بین الاقوامی نام ہے۔
کیونکہ یہ دھان کی فصل کا بنیادی کیڑا ہے
پَیڈی بَگ ۔
Paddy Bug۔"پیڈی" دھان کے کھیتوں یا چاول
کے لیے استعمال ہوتا ہے۔یعنی دھان کا کیڑا
چاول کی بالی کا کیڑا ۔ Rice
Earhead Bug۔چاول کی بالی (Earhead)
کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے یہ نام پڑا۔
شکل کی بنیاد پر ۔
نَرُو بَگ۔ Slender Rice Bug۔
اس کے پتلے اور لمبے جسم کی وجہ سے دیا گیا نام۔
چائنہ بگ ۔ گندا مکڑا۔ گندا کیڑا ۔ چاول کے بیج کا کیڑا ۔ والنگ ساکٹ ۔ بالی کا کیڑا وغیرہ
گندھی
بگ کا دورِ حیات (Life Cycle)
گندھی
بگ کے دورِ حیات کے چار اہم مراحل درج ذیل ہیں۔
1. انڈا
(Egg)
·
شکل اور رنگت: انڈے
چھوٹے بیضوی (Oval) شکل کے
اور شروع میں ہلکے پیلے یا سنہری بھورے رنگ کے ہوتے ہیں۔ جو بعد میں گہرے سرخ
بھورے ہو جاتے ہیں۔
·
جگہ: مادہ
کیڑا اپنے انڈے دھان کے پودے کے پتوں کے درمیان میں یا پتوں کی اوپری
سطح پر رگوں کے ساتھ قطار میں دیتی ہے۔ ہر ایک بیچ (Batch) میں تقریباً 10 سے
25 انڈے ہوتے ہیں۔
·
مدت: انڈے
سے بچہ نکلنے میں تقریباً 6 سے 8 دن لگتے
ہیں۔
2 نیمف (Nymph)
۔کیڑے
کا بچہ :
·
شکل: جب
انڈے سے بچہ نکلتا ہے تو اسے نیمف (Nymph) کہتے
ہیں۔ یہ چھوٹا پنکھ کے بغیر ہوتا ہے اور شکل میں بالغ کیڑے سے ملتا جلتا
ہے بس سائز میں بہت چھوٹا ہوتا ہے۔
·
رنگت: نیمف کا
رنگ شروع میں ہلکا سبز ہوتا ہے جو اسے دھان کے پودوں میں چھپنے میں مدد
دیتا ہے۔ جیسے جیسے یہ بڑا ہوتا ہے اس کا رنگ گہرا ہو سکتا ہے۔
·
نقصان کا آغاز: نیمف کی
پیدائش ہوتے ہی یہ فوراً دھان کے نرم دانوں کا رس چوسنا شروع کر دیتا ہے۔
·
میٹامورفوسس: نیمف کی
حالت میں یہ کیڑا تقریباً 5 مختلف مراحل
(Instars)
سے
گزرتا ہے۔ یعنی یہ 5 بار اپنی جلد بدلتا ہے اور سائز میں بڑا ہوتا جاتا ہے۔
·
مدت: نیمف کا
مکمل مرحلہ تقریباً 17 سے 27 دن پر
محیط ہوتا ہے۔
3بالغ
کیڑا۔ (Adult Bug)
·
پیدائش: پانچویں
نیمف کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد یہ بالغ کیڑے کی شکل اختیار کر لیتا
ہے۔
·
نمایاں خصوصیت: بالغ
کیڑے کے جسم پر پنکھ مکمل طور پر بن جاتے ہیں۔جو اسے ایک کھیت سے دوسرے
کھیت تک اڑ کر جانے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کی ناگوار بدبو بالغ ہونے پر سب
سے زیادہ واضح ہوتی ہے۔
·
نقصان کا تسلسل: بالغ
کیڑے بھی اسی طرح دودھ والے دانوں کا رس چوستے رہتے ہیں اور سب سے زیادہ نقصان اسی
مرحلے میں ہوتا ہے۔
·
افزائش: مادہ
بالغ کیڑا افزائش نسل شروع کر دیتی ہے اور نئے انڈے دیتی ہے۔
·
مدت: بالغ
کیڑے کی زندگی کا دورانیہ موسم کی مناسبت سے 30 سے 60 دن تک ہو
سکتا ہے۔
خلاصہ (Summary):
گندھی
بگ کا پورا دورِ حیات انڈا → نیف (5
مراحل) → بالغ کیڑا کی
صورت میں چلتا رہتا ہے۔ یہ کیڑا سب سے زیادہ نقصان اس وقت پہنچاتا ہے جب دھان کی
بالیوں میں دودھ (Milky Stage) بن رہا
ہوتا ہے۔ خشک اور گرم موسم اس کی افزائش کے لیے زیادہ سازگار ہوتے ہیں۔


.png)
.png)
.png)
Comments